شراکتی کیبنٹ
کلائنٹ کیبنٹ

لائیو ہلپ آن لا ئن

یہاں کلک کریں

کالا سونا بطور معاشی علامت کے۔

کروڈ آئل بطور کرنسی اور سونا بطور اہم معاشی علامت کے جانا جاتا ہے کہ ان پر پورا علمی معاشی نظام بنیاد کرتا ہے۔ وولاٹیل کوٹز معاشی اور سیاسی خبروں پر بنیاد کرتے ہیں۔بہرحال تیل کی افادیت کے پیش نظر یہ ہمیشہ ایک اہم تجارتی معیار رہا ہے جس کا اثر عالمی معاشیات پر بہت گہرا ہے۔

کروڈ آئل بلینڈ

برینٹ (برینٹ کروڈ) یہ تیل کی دنیا میں ایک اہم نام ہے جو کہ جنوبی سمندر میں پیدا ہو تاہے۔ او ر یہ جنوبی سمندر کی مائن فیلڈ سے نکلتا ہے۔دراصل کروڈ آئل بلینڈ برینٹ ’ ایسس برگ اور فورٹیز کوسٹ آف ناروے اینڈ سکاٹ لینڈ کے بیچ بھی کہلاتا ہے۔ یہ ایک اہم قسم کا تیل ہے جو کہ دنیا کے اہم ترین مقامات پر استعمال ہو تاہے۔ 1971 سے اس کا ساعی دنیا خصوصا روس میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر گہرا اثر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کو بینچ مارک اور راکو کہا جاتا ہے۔اس کا پیوڑٹی ریٹ 2007 میں تبدیل ہو ا ہے۔ آجکل برینٹ آئل کے مستقبل پر بحث ہو رہی ہے۔عاملی معیشت میں قیمتیں اسی پر بنیاد کرتی ہیں۔ یورلز ۔۔ کڑوا کروڈ آئل اس میں سلفر کی مقدار 1.3% ہوتی ہے۔ جو کہ تارستان کے ریاست کانٹے مانسک کی پیدا وار ہے۔ اس کی پیداواری بڑی کمپنیاں لاکو اور رنسفٹ اور لاکو’ لوکوئل اور لاکو گازپرو منفٹ اور لاکو’ ٹی این کے اور لاکو ٹاٹنفٹ اور لاکو شامل ہیں۔ روسی تیل کی قیمتیں برینٹ میں کمی پر انحصار کرتی ہیں۔حالیہ وقتوں میں روس میں یولرز کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

یورلز کڑوا کروڈ آئل (1.3% سلفر کے ساتھ)جو کہ کروڈ آئل کامعیار ظاہر کرتا ہے۔یہ پیدا ہو تا ہے تاتارستان کے ایک ضلع میں اور اس کے اہم کشید کرنے والوں میں رسنفت ’لک آئل’شوگرنفٹاز’گزنپوفٹ’ٹی این کے اور ٹٹنیفٹ شامل ہیں۔روسی آئل کی قیمت کا تعلق برنٹ آئل کی قیمت سے تعلق رکھتا ہے۔چونکہ روسی تیل سلفر کی وجہ سے معیاری تصور نہیں کیا جاتا۔حالیہ وقتوں میں اس پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ تیل کا معیار بہتر کیا جائے۔مغربی سائبرین کا تیل قابل قبول ہے۔جو کہ لائٹ برینڈ سے جانا جاتا ہے۔روس میں اس تیل کی تجارت آر ٹی ایس سٹاک مارکیٹ میں ہو تی ہے۔

مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) -یہ آئل کا برینٹ ٹیکساس میں ہیدا ہوتاہے اس میں سلفر 0.4 -0.5 تک ہوتاہے۔یہ ذیادہ تر گیسولین میں استعمال ہو تا ہے جس کی وجہ سے اس کی طلب بہت ذیادہ ہے۔خصوصا امریکہ اور چائنہ میں۔

کروڈ آئل کے مارکیٹ شراکت دار

پیٹرولیم کی پیداوار


اکثر کروڈأئل مارکیٹ میں چھوٹی اور بڑی تیل کشید کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے آتا ہے۔اور جو کمپنی جس قدر تیل میدا کرتی ہے اتنا ہی مارکیٹ پر اثر انداز ہو تی ہے۔

صنعت


صنعت تمام کمپنیوں جیسے کہ تیل کی ’ ریفاینری یا کسی بھی قسم کی جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو پر مبنی ہے۔ یہ ورٹیکلی ۔انٹیگریٹڈ سٹرکچر کہلاتا ہے۔

کموڈیٹی اور کروڈ آئل مارکیٹ


بہت سے ممالک کی بڑی مارکیٹوں میں کروڈ آئل کے تجارت کے حوالے سے الگ شعبہ جات ہوتے ہیں۔

سرمایہ کار


سرمایہ کاروں کے مارکیٹ میں مختلف مفادات ہو تے ہیں۔جہاں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری ہو تی ہے وہاں کروڈ آئل میں بھی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ عموما سونے میں ذیادہ کام کیا جاتا ہے۔

اوپی ای سی


آرگنائیزیشن آف ممالک برائے تیل کی درآمد ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو کے تیل کی قیمتوں کو قابو کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ جن ممالک کی معیشت تیل پر بنیاد کرتی ہے وہ اس تنظیم کے رکن ہوتے ہیں۔ اس کا جود 1960میں ہو ا ۔ ابتدائی طور پر ایران ’ عراق ’ کویت ء سعودیہ وینیظویلا اس کے رکن بنے۔ جن میں بعد ازاں مزید 9 ممالک شامل ہوئے قطر 1961 انڈونیشیا 1962-2008 لیبیا 1962 متحدہ عرب امارات 1967الجیریا 1969نائجیریا 1971ایکوڈیرا 1973-1992-2007 گابون 1975-1994اینگولا 2007 .
آجکل اس کے 12ممبر ہیں 2008میں روس نے بھی اس کاممبر بننے کے لئے خواھش کا اظہار کیا ہے۔

کروڈ آئل کی تجارت


دنیا ہیں پیدا ہونے دالا تیل غیر معیا ری اور مہنگا ہوتا ہے۔ جو کہ مختلف عوامل پر انحصار کر تا ہے۔ لیکن یہ اپنی ساخت کے اعتبار سے جنو بی امریکہ میں پیدا ہونے تیل جیسا ہی ہو تا ہے۔اس کے قیمت کی تعین عموما ماس میڈیا کی طرف سے کیا جاتا ہے۔.
عموما اس کے قیمت لاکو یا برینٹ لاکو کے اگلے ماہ کے معائدہ کے برابر ہوتی ہے۔اور خریدار اس قیمت کو ادا کرنے کا اقرار کرتا ہے جب وہ معائدہ پر دستہخط کر رہا ہوتا ہے۔.
فیوچر کنٹریکٹ عموما متعلقہ بونس کے تحت ہو تے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ادا کئے جاتے ہیں۔ آجکل کم از کم 1000بیرل کا معائدہ ہوتا ہے۔.
اہم تجارتی منڈیا ں این وائی ایم دی ایکس ء سی ایم ای’ اور لوئی ہیں۔

تیل کی قدر


گزشتہ سال کے مالی بحران میں تیل کافی حد تک معاون رہا ہے۔اور اس کی قیمت 11جون2008 کو 14726امریکی ڈالر فی بیرل تک دیکھی گئی
سال کے آخر میں اس میں 40-50 ڈالر تک کی قیمت میں برقراری بھی نظر آئی ۔یہ کھنا مشکل ہے کہ تیل کی مارکیٹ میں بحران کی سے کیفیت ہے ۔اور 2009 میں اس کی قیمتو ں میں استحکام نظر آیا۔
اسمیں ایک بنیادی عنصر یہ تھا کہ اس بحران نے معیشت میں ایک بھونچال پیدا کیا ہو ا تھا ۔اور تیل کی طلب میں کمی واقع ہو رہی تھی
۔اس کے علاوہ ایک پیشن گوئی یہ بھی کی جارہی تھی کہ تیل کی قیمتں 150-200 ڈالر فی بیرل تک جائیں گی۔
اہم مالیاتی فنڈ یا کمپنیا ں جو کہ اس تمام عمل میں پیش پیش تھیں نے بھی اس کی قیمتوں میں اضافہ میں اہم کردار ادا کیا۔ اہم فنڈ اور سرمایہ کا ر کمپینا ں تیل کی سالانہ خریداری میں پیش پیش ہوتی ہیں۔بہرحال موجودہ عالمی بحران نے پوری دنیا کو اپنی لمیٹ میں لیا ہو ا ہے اور کسی کو کسی قسم کے فراڈ کے پرواہ نہیں۔یہاں تک کے لوگ اپنی املاق تک بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جو کے بد ترین صرتحال ہے۔

اگلا صفحہ